ابنا: روسی حکام نے ماسکو میں شامی وزیرخارجہ ولیدالمعلم سےملاقات کےبعد شام کے کیمیاوی ہتھیاروں کےگوداموں پر بین الاقوامی نگرانی کا منصوبہ پیش کیا جس کا شام اور دوسرےممالک اورعلاقائی وعالمی اداروں نے فوراخیرمقدم کیا۔امریکہ کی سرپرستی وقیادت میں شام مخالف محاذ روس کی اس تجویز پر شکوک وشبہات ظاہرکررہا ہے۔امریکہ اورترکی ، سعودی عرب، اوراسرائیل جیسے اتحادی روس کی اس تجویز پرحیران رہ گئے ہیں اوراسرائیل تو اس پراپناغصہ بھی نہيں چھپا سکا۔امریکی صدرباراک اوبامہ نے شام کےبارے میں لائف ٹی وی پروگرام میں کہا کہ شام کے کیمیاوی ہتھیاروں کےبارے میں روس کی تجویز کےموثر ہونے کےبارے میں کچہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے لیکن فوجی کاروائی کےبجائے اس کاخیرمقدم کیا۔جبکہ روسی صدر پوتین نے ماسکو کی تجویز کو بحران شام کےحل کےلئے موثر اور پرامن قراردیا۔روسی صدر نے رشاٹوڈے کوانٹرویودیتے ہوئے تاکیدکے ساتھ کہا کہ شام کےکیمیاوی ہتھیاراسی وقت حوالے کئے جائيں گے جب امریکہ اور اس کےاتحادی حملے کےمنصوبے کو منسوخ کردیں۔شامی وزیرخارجہ ولیدالمعلم نے ماسکو میں ایک پریس کانفرنس میں روس کی تجویزکاخیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ شام کیمیاوی ہتھیاروں کی روک تھام کے کنونشن سےملحق ہوناچاہتا ہے۔برطانوی وزیراعظم ڈیویڈ کیمرون نے بھی جو ایوان نمائندگان سے شام پرحملے کی حمایت حاصل نہيں کرسکے کہا ہےکہ شام کےکیمیاوی ہتھیاروں پربین الاقوامی تجویزقابل توجہ ہے۔شام پرحملے کی مخالفت کرکے لندن نے پہلی بار اپنےدائمی اتحادی واشنگٹن کوجنگ شروع کرنے میں تنہاچھوڑ دیا اور اسی وجہ سے امریکہ میں شام کےخلاف جنگ کے بارے میں اختلافات بڑہ گئے ہيں۔کینیڈا کےوزیرخارجہ جان برڈ نے بھی بحران شام کےحل کےلئے روسی تجویزکاخیرمقدم کرتے ہوئےکہا کہ بحران شام کےحل کاواحدراستہ سیاسی اورمذاکرات ہیں۔کینڈا نےاس سےقبل بھی امریکہ کےیکطرفہ حملے کی حمایت نہيں کی تھی۔ بیلاروس نے بھی شام اورعلاقے میں نئی جنگ کےلئے عالمی برادری کی کوششوں کاخیرمقدم کیا ہے۔لبنانی صدر میشل سلیمان نے بھی امیدظاہرکی ہے کہ بحران شام روسی صدر کی کیمیاوی ہتھیاروں پر عالمی نگرانی کی تجویز کےذریعے ہوناچاہئے۔شام کے کیمیاوی ہتھیاروں پر بین الاقوامی نگرانی کی روسی تجویز اس وقت سامنےآئي جب کیمیاوی ہتھیاروں کےاستعمال کےبہانے شام پرحملےکاخطرہ بڑہ گیا ہے۔حکومت شام نے اپنےاصولی موقف سےایک قدم پیچھے ہٹےبغیر تاکیدکی ہے کہ شام پر ہر طرح کےممکنہ حملے کامنہ توڑ جواب دیاجائےگا۔ شام کےصدربشاراسد نے زور دےکرکہا ہے کہ شام میں ہرطرح کی ممکنہ فوجی مداخلت کا ویسا ہی جواب دیا جائےگا۔......./169
10 ستمبر 2013 - 19:30
News ID: 461819
بحران شام کے حل کے لئے روس کی تجویز پرمثبت ردعمل سامنے آنے کےباوجود امریکہ نے اس پر سرد مہری حتی شک وشبہ کااظہارکیا ہے۔